8 مئی 2012 - 19:30

پاکستان کی وزیرخارجہ حناربانی کھرنےاپنی امریکی ھم منصب ہیلری کلنٹن کےبیانات کومسترد کردیاہے۔

ابنا: روزنامہ ڈیلی ٹائمزکےمطابق حناربانی کھر نے پاکستانی پارلمینٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کےاجلاس کےبعد صحافیوں سےگفتگوکرتےہوئےکہاکہ القاعدہ کےسرغنہ ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کی خبرغلط ہے۔

حناربانی کھر نےکہاکہ پاکستان میں ایمن الظواہری کی موجودگی کی انھیں کوئي خبرنہيں ہے اوراگردوسرےممالک کواس کی خبر ہےتو وہ پاکستانی حکام کواطلاع دیں۔

ہیلری کلنٹن نے اپنےحالیہ دورہ ہندوستان میں ایک بارپھر دہشتگردی کےخلاف پاکستانی حکومت کےطریقہ کار پرتنقیدکرتےہوئےاس ملک میں انتہاپسندی کےخلاف سخت اقدامات کامطالبہ کیا۔پاکستان میں ایمن الظواہری کےچھپےہونےکےبارےميں امریکی وزیرخارجہ کےبیانات ایسےحالات میں سامنےآئےہيں کہ ایبٹ آباد میں القاعدہ کےسرغنہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کوتقریباتیرہ مہینےگذرچکےہيں۔

امریکی صدر باراک اوبامہ نے جوخود کواس ملک کےصدارتی انتخابات کےلئےتیارکررہے ہيں ، بن لادن کی ہلاکت کےمسئلے کواپنی پوزیشن مضبوط کرنےکےلئےاستعمال کرناچاہتےہیں۔

اسامہ بن لادن گذشتہ برس دومئی کوپاکستان میں امریکہ کمانڈوزکےخفیہ آپریشن میں ہلاک ہواتھا۔پاکستان میں بن لادن کےخفیہ ٹھکانےکارازفاش ہونےکےبعد پاکستانی حکومت اورفوج پربن لادن کی موجودگی کےبارےمیں لاعلمی کاالزام لگاتھااوراسےشدیدتنقیدوں کاسامناکرناپڑاتھا البتہ بعد میں پاکستانی فوج کےسابق جنریلوں کےبیانات سےپتہ چلاکہ بن لادن مشرف کےدوراقتدارسے ہی اس ملک میں مخفی زندگی گذاررہے تھے جبکہ پیپلزپارٹی کی حکومت کواس کی کوئی خبرنہيں تھی ۔

اگرچہ پاکستان کی موجودہ حکومت ایبٹ آباد میں بن لادن کےخفیہ ٹھکانےکی اطلاع کےالزام سےبری ہوگئی ہےلیکن پاکستان پراب القاعدہ اورطالبان کےبعض دوسرےسرغنوں کی موجودگی کاالزام عائد ہوگیاہے ۔

ایسےعالم میں جب امریکہ جو حکومت ایبٹ آباد میں بن لادن کی ہلاکت کو اپنےلئےبڑی کامیابی سمجھتاہے،پاکستان ميں ایمن الظواہری کی موجودگی جیسےموضوعات اٹھاکرایک بارپھراسلام آباد پرعالمی دباؤ ڈالنےکی کوشش کررہاہے۔

بعض ماہرین کاخیال ہےکہ افغانستان کےلئے پاکستان کی سرحد سے نیٹو کےٹرکوں کی رفت وآمد پرپابندی جاری رہنےکےپیش نظر،وہائٹ ھاؤس پاکستان میں القاعدہ جیسےلیڈروں کی موجودگی کےالزام کواسلام آباد حکومت پرعلاقےمیں اپنی پالیسیوں کےساتھ تعاون پرمجبورکرنےکےلئےاستعمال کرناچاہتاہے۔

البتہ اس طرح کےبیانات اسلام آباد پرامریکی پالیسیوں کی پیروی کےلئےدباؤ ڈالنےکےساتھ ہی پاکستان میں امریکی فوج کےخودسرانہ اوریکطرفہ اقدامات کےلئےماحول فراہم کرنےکاباعث ہوسکتےہيں ۔....... /169